عرضِ مرتب

کسی بھی قوم یا معاشرہ کی اصلاح و تعمیر میں جو بنیادی کردار عورتیں ادا کرتی ہیں وہ کسی ہوش مند سے مخفی نہیں۔ بچوں کی تربیت، معاشرہ کی صلاح و فساد، بناؤ و بگاڑ کا تعلق مردوں کی بہ نسبت عورتوں سے زیادہ ہے۔ بچے ماؤں کی گود میں پلتے ہیں اور ان کا سب سے پہلا مکتب و مدرسہ ماں کی گود ہوتی ہے۔ عورتوں کی اصلاح معاشرہ کی اصلاح ہے۔ عورتیں اگر چاہیں تو بگڑے ہوئے معاشرہ اور مغربی تہذیب کے بہتے ہوئے سیلاب کا رخ موڑ دیں۔

یہی وجہ ہے کہ شریعت میں بہت سے احکام خصوصیت کے ساتھ عورتوں کے متعلق بیان کیے گئے ہیں اور حضور  صلی اللہ علیہ وسلم  نے عورتوں کی اصلاح کی طرف خصوصیت کے ساتھ توجہ فرمائی ہے۔ اس کے لیے مستقل وعظ بھی فرمائے ہیں۔ اسی اہمیت کے پیش نظر ہر زمانے کے علماء نے حالات کے مطابق کوششیں فرمائی ہیں۔ چناں چہ  اس سلسلہ میں مختلف کتابیں لکھی گئیں۔

ایک عرصہ سے ضرورت محسوس کی جاتی تھی کہ عورتوں کے متعلق ایسی کوئی کتاب منظر عام پر آنی چاہیے جو عام طور پر ہر گھر اور عورتوں کے دینی اجتماعات میں پڑھی اور سنی جاسکے جس میں مسائل سے قطع نظر ترغیب و ترہیب کے ساتھ دین کے ضروری احکام بیان کیے گئے ہوں۔ نیز عورتوں میں پائے جانے والے عیوب ظاہری و باطنی امراض اور ان کی عام خامیوں و کوتاہیوں کی نشاندہی اور ان کا علاج بھی بیان کیا گیا ہو۔

حکیم الامّت مجدد الملّت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے تجدیدی کارنامے محتاجِ تعارف نہیں، عورتوں کی اصلاح کے متعلق بھی اللہ تعالیٰ نے آپ سے تجدیدی کام لیا۔ چناں چہ  ایک طرف تو آپ نے عورتوں کے لیے مسائل کی کتاب ’’بہشتی زیور‘‘ تصنیف فرمائی دوسری طرف عورتوں کے اعمال و اخلاق اور ظاہر و باطن کی اصلاح کے لیے مستقل وعظ فرمائے جو چھپے ہوئے بھی ہیں جن میں مختلف منتشر مضامین بکھرے ہوئے ہیں۔ ضرورت تھی کہ ان مضامین کو منتخب کرکے ترتیب وار جمع کردیا جائے ’’اصلاحِ خواتین‘‘حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے ان ہی افادات کا مرتب مجموعہ ہے جو حضرت نے مختلف اوقات میں خواتین کے اعمال و اخلاق کی اصلاح کے لیے بسلسلہ وعظ فرمائے ہیں۔

مسائل کے لیے تو بہشتی زیور اور دوسری معتبر کتابوں کو دیکھنا چاہیے لیکن عورتوں کے اعمال و اخلاق کی ظاہری و باطنی اصلاح کے لیے اس رسالہ کا پڑھنا اور سننا اور سنانا،ان شاء اللہ مفید اور معین ثابت ہوگا۔ اس سے قبل بھی اصلاحِ معاشرہ کے سلسلہ کی بعض کتابیں’’اسلامی شادی،  حقوق معاشرت (میاں بیوی کے حقوق، ساس بہو کے جھگڑے اور ان کا شرعی حل)‘‘ جو اصلاً حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ ہی کے افادات کے مجموعے ہیں،شایع ہوکر مقبول ہوچکی ہیں۔

یہ دراصل اصلاحِ معاشرہ (جس کی ضرورت سب کو مسلم ہے) کا مکمل نصاب ہے، جس کی تین کتابیں یہ ہی ہیں جن کا ذکر ہوا۔ چوتھی کتاب ’’پردہ عقل و نقل کی روشنی میں‘‘ اور پانچویں’’تربیتِ اولاد اور اس کے متعلقات‘‘ چھٹی ’’اسلامی تہذیب کے اصول و آداب‘‘ یہ ہی چھ موضوعات ہیں جو اصلاحِ معاشرہ کی جڑ و بنیاد ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اردو کے علاوہ دوسری زبانوں میں بھی زائد سے زائد اس کی اشاعت کرکے گھر گھر پہنچایا جائے، اس کے پڑھنے سے کافی حد تک اصلاح کی امید کی جاسکتی ہے۔

وما ذالک علی اللہ بعزیز

 

کتاب پڑھیں۔۔۔

کل کی ماں کاپیغام آج کی ماؤں کے نام

( حضرت اقدس مولانا ابو الحسن علی ندوی قدس سرہ العزیز کی تصنیف سے ایک اقتباس)


ایک زمانہ میں میری طبیعت دینی تعلیم سے کچھ اُچاٹ سی ہونے لگی اور انگریزی تعلیم حاصل کرنے اور سرکاری امتحانات دینے کا دورہ سا پڑا ،بھائی صاحب نے کسی خط میں یا رائے بریلی کے کسی سفر میں والدہ صاحبہ سے میرے اس نئے رجحان کی شکایت کی اس پر اُنھوں نے میرے نام جو خط لکھا،اس سے ان کے دلی خیالات ،جذبات اور اُن کی قوتِ ایمانی اور دین سے محبت و عشق کا اندا زہ ہوتا ہے ۔اس خط کا ایک اقتباس جس پر کوئی تاریخ نہیں ہے لیکن غالباً ١٩٢٩ء یا ١٩٣٠ء کا لکھا ہوا ہے،من و عن پیش کیاجا رہا ہے :
 

عزیزی علی سلمہ

تمہارا اب تک کوئی خط نہیں آیا ،روز انتظار کرتی ہوں ،مجبورآکر خود لکھتی ہوں،جلد اپنی خیریت کی اطلاع دو۔عبدالعلی  کے آنے سے اطمینان ضرور ہوا، مگر تمہارے خط سے تو اور تسکین ہوتی ۔عبدالعلی سے میں نے تمہاری دوبارہ طبیعت خراب ہونے کا ذکر کیا تو اُنھوں نے کہا کہ علی کو اپنی صحت کا بالکل خیال نہیں،جو وقت تفریح کا ہے وہ پڑھنے میں گزارتے ہیں ۔میں نے کہا ، تم روکتے نہیں ،کہا بہت کہہ چکے اور کہتے رہتے ہیں ، مگر وہ نہیں خیال کرتے، اس سے سخت تشویش ہوئی ،اول تو تمہاری بے خیالی اور ناتجربہ کاری اور پھر بے موقع محنت جس سے اندیشہ ہو ۔
علی!مجھے امیدتھی کہ تم انگریزی کی طرف مائل نہ ہو گے، مگر خلاف ِاُمید تم کہنے میں آگئے اور اتنی محنت گواراکر لی خیر بہتر ،جو کچھ تم نے کیا ، یہ بھی اس کی حکمت ہے بشرطیکہ استخارہ کر لیا ہو۔
مجھے تو انگریزی سے بالکل اُنسیت نہیں ،بلکہ نفرت ہے، مگر تمہاری خوشی منظور ہے۔ علی!دنیا کی حالت نہایت خطرناک ہے،اس وقت عربی حاصل کرنے والوں کا عقیدہ ٹھیک نہیں تو انگریزی والوں سے کیا اُمید ! بجز عبدالعلی او ر طلحہ کے تیسری مثال نہ پاؤ گے ۔علی!اگر لوگوں کا عقیدہ ہے کہ انگریزی والے مرتبے حاصل کر رہے ہیں کہ کوئی ڈپٹی اور کوئی جج،کم از کم وکیل اور بیرسٹر ہونا تو ضروری ہے مگر میں بالکل اس کے خلاف ہوں،میں انگریزی والوں کو جاہل اور اس کے علم کو بے سود اوربالکل بیکارسمجھتی ہوں ۔ خاص کر اس وقت میں نہیں معلوم کیا ہو ،اور کس علم کی ضرورت ہو، اس وقت میں البتہ ضرورت تھی۔
اس مرتبہ کو تو ہر کوئی حاصل کر سکتا ہے ،یہ عام ہے، کون ایسا ہے جو محروم ہے،وہ چیز حاصل کرنا چاہیے جو اس وقت گراں ہے اور کوئی حاصل نہیں کرسکتا جس کے دیکھنے کو آنکھیں ترس رہی ہیں اور سننے کو کان مشتاق ہیں ۔آرزو میں دل مٹ رہا ہے مگر وہ خوبیاں نظر نہیں آتیں، افسوس!ہم ایسے وقت میں ہوئے۔
علی!تم کسی کے کہنے میں نہ آؤ اگر خدا کی رضامندی حاصل کرنا چاہتے ہو اور میرے حقوق ادا کرنا چاہتے ہو تو ان سبھوں پر نظر کرو جنھوں نے علم دین حاصل کرنے میں عمر گزاردی ، ان کے مرتبے کیا تھے!شاہ ولی اللہ صاحب، شاہ عبدالعزیز صاحب ، شاہ عبدالقادر صاحب ،مولوی ابراہیم صاحب اور تمہارے بزرگوں میں خواجہ احمد صاحب او رمولوی محمد امین صاحب جن کی زندگی اور موت قابلِ رشک ہوئی،کس شان وشوکت کے ساتھ دنیا برتی اور کیسی کیسی خوبیو ں کے ساتھ رحلت فرمائی۔یہ مرتبے کسے حاصل ہو سکتے ہیں، انگریزی مرتبے والے تمہارے خاندان میں بہت ہیں اور ہوں گے مگر اس مرتبے کا کوئی نہیں ،اس وقت بہت ضرورت ہے،ان کوانگریزی سے کوئی انس نہ تھا،یہ انگریزی میں جاہل تھے،یہ مرتبہ کیوں حاصل ہوا۔
علی!اگر میرے سو اولادیں ہوتیں ،تو سب کو میں یہی تعلیم دیتی ،اب تم ہی ہو ،اللہ تعالیٰ میری خوش نیتی کا پھل دے کہ سو کی خوبیاں تم سے حاصل ہوں اور میں دارین میں سرخ رُو اور نیک نام اور صاحب ِاولاد کہلاؤں ،آمین ثم آمین۔
میں خدا سے ہر وقت دُعا ء کرتی ہوں کہ وہ تم میں ہمت اور شوق دے اور خوبیاں حاصل کرنے کی اور تما م فرائض ادا کرنے کی توفیق دے، آمین۔
اس سے زیادہ مجھے کوئی خواہش نہیں ، اللہ تعالیٰ تمہیں ان مرتبوں پر پہنچائے اور ثابت قدم رکھے ،آمین ۔علی!ایک نصیحت اور کرتی ہوں ،بشرطیکہ تم عمل کرو ، اپنے بزرگوں کی کتابیں کام میں لاؤاور احتیاط لازم رکھو۔جو کتاب نہ ہو و ہ عبدالعلی کی رائے سے خریدوباقی وہی کتابیں کافی ہیں ،اس میں تمہاری سعادت اور بزرگوں کو خوشی ہو گی ۔اس سعادت مندی کی مجھے بے حدخواہش ہے کہ تم ان کتابوں کی خدمت کرو، جو روپیہ خرچ کرو ان ہی ضرورتوں میں یا کھاؤ۔
قرض کبھی نہ لو ، ہو تو خر چ کرو ، ورنہ صبر کرو،طالب علم یوں ہی علم حاصل کرتے ہیں ،تمہارے بزرگو ں نے بہت کچھ مصیبتیں جھیلی ہیں،اس وقت کی تکلیف باعثِ فخر سمجھو، جو ضرورت ہو ہمیں لکھو،میں جس طرح ممکن ہوگا پورا کروں گی ، خدا مالک ہے مگر قرض نہ کرنا ، یہ عادت ہلاک کرنے والی ہے ، اگر وفائے وعدہ کرو تو کچھ حرج نہیں ۔صحابہ رضی اللہ عنہم نے قرض لیا ہے مگر ادا کر دیا ہے ،ہم کون چیز ہیں ۔علی!یہ بھی تمہاری سعادت مندی ہے کہ میری نصیحت پر عمل کرو۔
حلوہ ابھی تیار نہیں ہوسکا ،ان شاء اللہ تعالیٰ موقع ملتے ہی تیار کرکے بھیجوں گی اطمینان رکھو۔بہت جلد خیریت کی اطلاع دو۔ اگر دیر کرو گے تو میں سمجھوں گی کہ میری نصیحت تمہیں ناگوار ہوئی ،ان شاء اللہ تعالیٰ رمضان شریف میں تم سے وعظ کہلاؤں گی۔ اللہ تعالیٰ میری خواہش سے زیادہ تمہیں توفیق دے کہنے کی اور تمہارا کلام پُراثر اور خدا کی خوشی ورضامندی کے قابل ہو ،آمین ۔باقی خیریت ہے،تم خدا کی رحمت سے تیار رہو، تم نے وعدہ بھی کیاہے۔۔۔۔تمہاری والدہ
 
( اسلام میں عورت کا درجہ۔ ص:٢٧٩)

صحابیات میدانِ جنگ میں

پھوپھی ہوں تو ایسی:

حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا نہایت دلیر اور نڈر خاتون تھیں۔ آپ دورانِ جنگ بے خوف و خطر زخمیوں کو میدانِ جنگ سے باہر لاتیں اور ان کی مرہم پٹی کرتی تھیں۔ غزوۂاحد میں آپ کے بھائی حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کو کفار نے شہید کرنے کے بعد لاش کے ناک کان کاٹ ڈالے، آنکھیں نکال لیں اور سینہ چیر کر دل اور جگر چبا  لیا۔ لاش کی ایسی  حالت دیکھنے کی ہمت ہر ایک میں نہ تھی، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی منع فرمادیا تھا کہ میری پھوپھی کو اپنے بھائی کی لاش تک نہ پہنچنے دینا۔لیکن یہ کسی نہ کسی طرح وہاں تک پہنچ گئیں، صبر و حوصلہ سے اپنے بھائی کی لاش کو دیکھا، انا للہ پڑھی اور یہ عظیم جملہ ارشاد فرمایا میں خدا کی راہ میں اس قربانی کو بھی بڑا نہیں سمجھتی۔

غزوۂاحد میں جب مسلمانوں کا لشکر بکھر گیا، حضرت صفیہ بپھری ہوئی شیرنی کی طرح کفار پر نیزہ چلاتی رہیں۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی بہادری پر تعجب ہوا اور آپ نے ان کے بیٹے سے فرمایا: زبیر اپنی ماں اور میری پھوپھی کی بہادری تو دیکھو، بڑے بڑے بہادر بھاگ گئے مگر یہ اکیلی ڈٹی ہوئی ہیں۔

غزوۂخندق کے موقع پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے ہمراہ مدینہ سے باہر تھے۔ مدینہ میں خواتین ایک بڑے گھر میں اکٹھی تھیں۔ ایک یہودی موقع مناسب سمجھ کر سن گن لینے گھر کے قریب پہنچ گیا۔حضرت صفیہ نے لکڑے سے حملہ کرکے اس کا سر پھاڑ دیا ۔ پھر اس کا سر کاٹ کر گھر سے باہر پھینک دیا۔ باہر کھڑے اس کے ساتھیوں پر ایسی ہیبت طاری ہوئی کہ دم دبا کر بھاگ اٹھے۔ انہیں یقین ہوگیا کہ اس گھر میں مسلمانوں کی فوج ہے۔اس کے بعد کسی میں اتنی ہمت نہ ہوئی کہ مسلمان خواتین پر حملہ کرتا۔ جنگ کے بعد جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت صفیہ کی اس دلیری کی اطلاع ہوئی تو آپ بہت خوش ہوئے اور  فرمایا:آخر پھوپھی کس کی ہیں!

شیر دل مجاہدہ:

غزوہ احد میں جب تک مسلمان غالب تھے حضرت اُمِ عمّارہ رضی اللہ عنہا مشک میں پانی بھر کر لوگوں کو پلا تی رہیں، ان کی کمر سے ایک کپڑا بھی بندھا ہوا تھا جس میں کپڑے کے بہت سارے چیتھڑے اُڑسے ہوئے تھے۔ جب کوئی زخمی ہوتا یہ کپڑے کے چیتھڑے جلاتیں اور اس کی راکھ زخم میں بھر دیتیں جس سے خون بہنا بند ہوجاتا۔جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم زخمی ہوئے اور مشرکینِ مکہ نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کے گرد گھیرا تنگ کردیا تو اس نازک موقع پر حضرت اُمِ عمارہ رضی اللہ عنہا ایک خنجر لے کر کفار کے مقابلے پر کھڑی ہوگئیں اور تیر وتلوار کے وار روکتی رہیں۔ جب ابنِ قمیہ ملعون نے رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم پر حملہ کیا تو حضرت اُمِ عمارہ نے اس کی تلوار کے وار کو اپنی پیٹھ پر روکا۔ اس کے نتیجے میں ان کے کندھے پر اتنا گہرا زخم لگا کہ گڑھا پڑگیا۔ انہوں نے بھی ابنِ قمیہ کے کندھے پر وار کیا مگر وہ دوہری زرہ پہنے ہوئے تھا اس لیے بچ گیا۔ اس جنگ میں حضرت اُمِ عمارہ کے سرو گردن پر تیرہ زخم آئے تھے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں فرمایا کہ میں اُحد کے روز اُمِ عمّارہ کو اپنے دائیں بائیں برابر لڑتے ہوئے دیکھتا تھا۔

حضرت اُمِ عمارہ رضی اللہ عنہا کے فرزند حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کا کہنا ہے کہ غزوۂاحد میں ایک کافر نے مجھے زخمی کر دیا۔ میرے زخم سے خون بند نہیں ہورہا تھا۔ میری والدہ حضرت اُمِ عمارہ نے کپڑا پھاڑ کر زخم پر باندھا اور کہا: کھڑے ہو اور جہاد میں مشغول ہو۔اسی وقت وہی کافر سامنے آ گیا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا: اُمِ عمارہ یہ ہے تیرے بیٹے کو زخمی کرنے والا۔ یہ سنتے ہی حضرت اُمِ عمارہ نے جھپٹ کر اس کافرکی ٹانگ پر ایسا بھر پوروار کیا کہ وہ گرگیا  اور سرین کے بل گھسٹتا ہوا بھاگا۔ یہ دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہنس پڑے اور فرمایا: اُمِ عمارہ خدا کا شکر ادا کر کہ اس نے تجھ کو اتنی طاقت اور ہمت عطا فرمائی کہ تو نے خدا کی راہ میں جہاد کیا۔ حضرت اُمِ عمارہ نے عرض کی کہ یا رسول اللہ! آپ دعا فرما دیجیے کہ اللہ تعالیٰ  ہم لوگوں کو جنت میں آپ کا قرب عطا فرمائے۔آپ نے اسی وقت ان کے، ان کے شوہر اور ان کے بیٹوں کےلیے دعا فرمائی کہ اے  اللہ! ان سب کو جنت میں میرارفیق بنادے۔حضرت اُمِ عمارہ رضی اللہ عنہا زندگی بھر یہ کہتی رہیں کہ رسول اللہ کی دعا کے بعد دنیا میں کوئی بھی مصیبت آجائے، مجھے پروا نہیں۔

حضرت اُمِ عمارہ کی عمر باون سال کی تھی کہ حضرت  ابوبکر رضی اللہ عنہ کے عہد میں یمامہ کا معرکہ پیش آیا، جھوٹے نبی مسیلمہ سے مقابلہ تھا۔اس جنگ میں مسیلمہ نے حضرت اُمِّ عمارہ کے لڑکے کو شہید کردیا۔ انہوں نے منت مانی کہ یا تو مسیلمہ کو قتل کریں گی یا لڑتے لڑتے خود شہید ہوجائیں گی۔پھر تلوار کھینچ کر میدانِ جنگ کی طرف روانہ ہوئیں اور اس پامردی سے مقابلہ کیا کہ بارہ زخم کھائے اور ایک ہاتھ کٹ گیا۔ لیکن  اس جنگ میں مسیلمہ مارا گیا۔

بحری جنگ کی پہلی شہید خاتون:

حضرت اُمِ حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا ننھیالی رشتے سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی رضاعی خالہ لگتی تھیں ۔ ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے گھر تشریف لے گئے، کھانا کھایا اور سونے لیٹ گئے ۔ تھوڑی دیر بعد نیند سے بیدار ہوئے تو چہرہ مبارک پر تبسم تھا۔ آپ نے فرمایا کہ میں نے اپنی امت کے کچھ لوگوں کو سمندر میں جہاد کے لیے سفر کرتے دیکھاہے ۔ حضرت اُمِ حرام نے عرض کیا:  یارسول اللہ! میرے لیے دعا فرمائیے کہ میں اس جہاد میں شریک ہوں۔آپ خاموش ہوگئے، تھوڑی دیر بعد پھر آنکھ لگ گئی، جب بیدار ہوئے تو  چہرۂانور پر پھر تبسم تھا۔آپ نے فرمایا: میں نے اپنی امت کے کچھ لوگوں کو سمندر میں جہاد کے لیے سفر کرتے دیکھاہے۔ حضرت اُمِ حرام نے پھر اپنے لیے دعا کروائی تو آپ نے فرمایا:اُمِ حرام!مبارک ہو تم بھی اس جہاد میں شریک ہو ۔حضرت اُمِ حرام یہ بشارت سن کر خوش ہوگئیں۔

اس واقعے کے برسوں بعد جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا دورِ خلافت آیا تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے قبرص اور دیگر علاقوں کو فتح کرنے کے لیے ایک جنگی بحری بیڑہ تیار کیا ۔ جو صحابہ اس جہاد میں شریک تھے ان میں اپنے خاوند کے ساتھ حضرت اُمِ حرام بھی شامل تھیں۔اللہ نے اسلامی لشکر کو فتح دی اور قبرص پر اسلامی پرچم لہرانے لگا ۔ واپسی کا سفر شروع ہوا تو حضرت اُمِ حرام اپنے گھوڑے پر سوار ہوئیں ، ان کا گھوڑا کسی چیز سے بدکا اور حضرت اُمِ حرام زمین پر گر گئیں ، انہیں شدید چوٹیں آئیں  جن کے باعث ان کا انتقال ہوگیا۔ قبرص میں حضرت اُمِ حرام بنت ملحان کی قبر مبارک موجود ہے۔

محترم ماؤں اور بہنو!  اگرچہ آج وہ دور نہیں کہ ہم میدانِ جہاد میں جاسکیں لیکن اپنے نفس سے جہاد کرنے کا میدان کھلا ہوا ہے۔نفس سے جہاد یہ ہے کہ ہر گناہ کے کام سے بچیں چاہے کتنی ہی تکلیف کیوں نہ ہو، چاہے دل خون ہی کیوں نہ برسائے  اور ہر فرض واجب اور سنت مؤکدہ پر عمل کریں چاہے کتنا ہی دشوار کیوں نہ محسوس ہو۔اگر آپ نے یہ کرلیا تو کیا عجب کہ کل قیامت کے دن  اللہ تعالیٰ آپ کو بھی شہداء کے برابر نہیں تو ان کی معیت میں ہی کوئی جگہ عطا فرمادیں۔ ان کی رحمت سے کچھ بعید نہیں!!!

صحابیات کے علمی کارنامے

اسلام نے تمام مسلمانوں کو بلا تفریق مرد و زن حصولِ علم کا حکم دیا ہے اور اس کی اہمیت بیان کی ہے۔ ابن ماجہ کی روایت ہے طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِیْضَۃٌ عَلٰی کُلِّ مُسْلِمٍ تمام مسلمانوں پر دین کے فرائض کا علم حاصل کرنا فرض ہے۔ یہ حکم مرد اور عورت دونوں کے لیے ہے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ میں خواتین کے اندر علمِ حدیث حاصل کرنے کا شوق اس قدر تھا کہ صحیح بخاری کی حدیث میں ہے خواتین نے اجتماعی طور پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے مطالبہ کیا کہ آپ ہماری تعلیم کے لیے کوئی انتظام فرمادیجیے۔ چناں چہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے ایک دن مقرر کیا جس میں ان کو وعظ و نصیحت فرماتے تھے۔

اگر صحابیات علم حاصل کرنے میں پیچھے رہتیں تو آج مسلمان خواتین اسلام کے متعدد علوم کی معرفت سے محروم رہتیں۔ نکاح وطلاق کے مسائل ہوں یا ازدواجی زندگی کے اُلجھے ہوئے پہلو۔ اگر اس قسم کے مسائل کا حل ہمیں ملتا ہے تو صحابیات کے ذریعے۔

صحابیات اور علم حدیث

صحابیات میں ازواج مطہرات کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہر لحاظ سے منفرد نسبت حاصل تھی۔ اس لیے اس سلسلے میں ان کی خدمات بھی اوروں سے زیادہ ہیں۔ روایتِ حدیث کے ذریعہ حفاظتِ حدیث کی ذمے داری نبھانے والی صحابیات کی تعداد سات سو سے زائد ہے۔ ان صحابیات سے بڑے بڑے صحابہ کرام اور جلیل القدر ائمہ نے علم حاصل کیا ہے۔ علامہ ابن حزم نے اپنی کتاب اسماء الصحابۃ الرواۃ و ما لکل واحد من العدد میں کم و بیش 125 ان صحابیات کا تذکرہ کیا ہے جن سے روایات مروی ہیں۔ ان صحابیات سے مروی احادیث کی کل تعداد 2560 ہے جن میں سب سے زیادہ روایات ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی ہیں۔

حضرت عائشہ صدیقہ:

 حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا  کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکاح ہوا تو آپ کی عمر صرف ۶ سال تھی اور جب رخصتی ہوئی تو ۹ سال تھی اور جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو آپ  کی عمر ۱۸ سال تھی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد آپ ۴۸ سال تک زندہ رہیں۔ ۵۷ سال کے اس طویل عرصے میں آپ شب و روز علمِ دین کو پھیلاتی رہیں۔ آپ کا حافظہ نہایت قوی تھا، جو سنتی تھیں وہ دل ودماغ پر نقش ہوجاتا تھا۔ حضرت عائشہ بکثرت روایت کرنے والی صحابیات میں سے ہیں۔ انہوں نے 2210 کے قریب احادیث بیان کی ہیں۔ ان میں سے 286 احادیث بخاری ومسلم میں ہیں۔ مرویات کی تعداد کے لحاظ سے صحابہ کرام میں ان کا چھٹا نمبر ہے۔حضرت عائشہ سے روایت کرنے والے صحابہ وتابعین کی تعداد سو سے زیادہ ہے۔ عروہ بن زبیر، سعید بن المسیب، عبداللہ بن عامر، مسروق بن اجدع، عکرمہ جیسے جلیل القدر حضرات آپ کے شاگرد ہیں۔آپ کی ایک قابل ذکر خوبی یہ تھی کہ جب آپ حدیث روایت کرتیں تو اس کی حکمت پر بھی روشنی ڈالتی تھیں۔

احادیث روایت کرنے کے علاوہ حضرت عائشہ فتاویٰ اور درس بھی دیا کرتی تھیں،بے شمار فقہی مسائل میں ان کے جوابات موجود ہیں۔ ان کی اس صفت میں بھی بہت کم صحابہ ان کے ہم پلہ تھے۔ کسی صحابی  سے علمی لغزش ہوجاتی تو اس کی نشاندہی فرماتی تھیں۔اگر کسی صحابی کو کسی حدیث کے سلسلے میں کوئی شبہ ہوتا تھا تو آپ ہی سے رجوع کرتے  تھے، آپ مدلل طور پر ان کے شبہ کو دور کر تی تھیں۔ علامہ جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے اس موضوع پر الاصابۃ فیما استدرکتہ عائشۃ علی الصحابۃ کے نام سے ایک مستقل کتاب لکھی ہے۔

امام زہری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کانت عائشۃ اعلم الناس یسالہا الاکابر من اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ تمام لوگوں میں سب سے زیادہ علم رکھنے والی تھیں، بڑے بڑے صحابہ کرام ان سے مسائل دریافت کرتے تھے۔ دوسری جگہ لکھتے ہیں’’اگر تمام ازواج مطہرات کا علم بلکہ تمام مسلمان خواتین کا علم جمع کیا جائےتو حضرت عائشہ کا علم سب سے افضل ہوگا۔‘‘ علامہ سیوطی نے”عین الاصابۃ“میں ۴۰ روایات نقل کی ہیں جن سے حضرت عائشہ کے فہم وفراست اور علم کا اندازہ ہوتا ہے۔

حضرت ام سلمہ:

ازواج مطہرات میں حضرت عائشہ کے بعد حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا علم حدیث میں ممتاز نظر آتی ہیں۔محمد بن لبید طبقات ابن سعد میں فرماتے ہیں کان ازواج النبی صلی اللہ علیہ وسلم یحفظن من حدیث النبی صلی اللہ علیہ وسلم کثیرا مثلا عائشۃ وام سلمۃ ویسے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام ازواج مطہرات احادیث کی حفاظت میں بہت محتاط تھیں مگر حضرت عائشہ اور حضرت ام سلمہ اس بارے میں سب سے زیادہ محتاط تھیں۔حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان ازواج مطہرات میں شامل ہیں جن کو حصولِ علم سے بہت ہی شغف تھا۔ آپ کی علمی اور دینی خدمات اتنی زیادہ ہیں کہ آپ کا شمار محدثین کے تیسرے طبقے میں ہوتا ہے، اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث مبارکہ کو سننے کے لیے اپنی ذاتی ضروریات کو بھی مؤخر کر دیتی تھیں۔

 محدثین کے مطابق حضرت ام سلمہ کی مرویات کی تعداد ۳۷۸ ہے، جن میں سے بہت سی احادیث بخاری اور مسلم میں شامل ہیں۔آپ کے فتاویٰ بھی بکثرت موجود ہیں۔ علامہ ابن القیم رحمۃ اللہ علیہ اعلام الموقعین میں لکھتے ہیں ’’اگر ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے سارے فتاویٰ جمع کیے جائیں تو ایک رسالہ تیار ہوسکتا ہے۔‘‘آپ کے شاگردوں میں اسامہ بن زید، سلیمان بن یسار، عبداللہ بن رافع، سعید بن مسیب، عروہ بن زبیر، زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا شامل ہیں۔

حضرت حفصہ  کی علمی خدمات:

ازواج مطہرات میں شامل ہونے کی وجہ سے آپ کو بلا واسطہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے احادیث­ مبارکہ سننے کا موقع ملا تھا۔آپ کی مرویات کی تعداد ۶۰ ہے۔ آپ سے بڑے بڑے صحابہ  کرام نے احادیث مبارکہ کی روایت نقل کی ہیں۔

حضرت میمونہ  کی علمی خدمات:

آپ کو بھی ازواج مطہرات میں شامل ہونے کی وجہ سے بلاواسطہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے احادیث سننے کا موقع فراہم ہوتا رہتا تھا۔آپ کی مرویات کی تعداد ۴۶ ہے۔آپ کے شاگردوں میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، زید بن عاصم اور عطاء بن یسار جیسی عظیم ہستیاں شامل تھیں۔

حضرت جویریہ کی علمی خدمات:

آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج میں شامل ہیں۔آپ سے حدیث شریف کی ۷ روایات مروی ہیں۔

حضرت سودہ کی علمی خدمات:

آپ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج میں شامل ہیں۔ آپ سے حدیث شریف کی ۸ روایات مذکور ہیں۔

ان کے علاوہ دیگر ازواج مطہرات نے بھی حدیث کی اشاعت میں حصہ لیا ہے اور ان سے بھی بڑے جلیل القدر صحابہ اور تابعین نے علم حدیث حاصل کیا ہے۔  حضرت ام حبیبہ سے 65،  حضرت زینب بنت جحش سے 11 اور حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہن سے 1، جب­کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی لونڈی حضرت ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا سے دو احادیث مروی ہیں۔

امہات المومنین کے علاوہ صحابیات میں مشکل ہی سے کوئی صحابیہ ایسی ہوں گی جن سے کوئی نہ کوئی روایت مروی نہ ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی لخت جگر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے 18، آپ کی پھوپھی حضرت صفیہ سے 11 احادیث مروی ہیں۔دیگر صحابیات میں سے حضرت ام سُلیم سے بھی بڑے بڑے صحابہ مسائل دریافت کرتے تھے۔ ایک مسئلہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس اور حضرت زید بن ثابت میں اختلاف ہوا تو دونوں نے ان ہی کو حَکَم بنایا۔ حضرت ام عطیہ سے بھی متعدد صحابہ و تابعین نے روایات نقل کی ہیں۔ صحابہ و تابعین مردے کو غسل دینے کا طریقہ ان ہی سے سیکھتے تھے۔

صحابیات کی کثرت روایت اور ان کی خدمت حدیث کا اندازہ اس سے کیا جاسکتا ہے کہ امام احمد بن حنبل نے ایک سو چالیس سے زائد صحابیات کا تذکرہ لکھا ہے۔ ابن اثیر نے ’’اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ‘‘ اور  علامہ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ نے ’’الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ‘‘ میں پانچ سو سے زائد صحابیات کے حالات ذکر کیے ہیں۔ابن حجر عسقلانی نے ’’تہذیب التہذیب‘‘میں دو سو تینتیس خواتین اسلام کا تذکرہ کیا ہے جن میں اکثر صحابیات ہیں۔

Last Updated On Saturday 18th of November 2017 03:58:39 PM