خانقاہ امدادیہ اشرفیہ

نقش قدم نبی کے ہیں جنت کے راستے

اللہ سے ملاتے ہیں سنت کے راستے

بلاشبہ عالم انسانیت کی فلاح و کامرانی کا راز حضور اکرم سرورِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی آسمانی و عالمگیر تعلیمات کو صحیح معنوں میں سمجھ کر اس پر عمل کرنے میں پوشیدہ ہے۔مسلمانوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے سائے میں ہمیشہ عروج اور انہیں پس پشت ڈال کر ہمیشہ زوال دیکھا۔ اگر غور کیا جائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات عملی نقطۂ نظر سے دواقسام پر مشتمل ہیں:

۱۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے پہلے حصہ کا تعلق ظاہری اعضاء و جوارح، اعضائے انسانی کے افعال و حرکات اور اُمورِ محسوسہ سے ہے، جیسے قیام، تلاوت، رُکوع، سجود، تسبیح، دعوت، جہاد، آداب، معاملات اور معاشرت وغیرہ اور یہی حصہ دین کا اصل قالب اور اسلام کا عملی نظام ہے۔

۲۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے دُوسرے حصہ کا تعلق باطنی کیفیات سے ہے، جن کو ہم اِخلاص و احتساب، صبر وتوکل، زُہد واِستغناء، ایثار و سخاوت، رُوحانی کیفیات، اصلاح اخلاق اورتزکیۂ نفس سے تعبیر کرسکتے ہیں، یہ باطنی کیفیات ظاہری اعمال کے لیے لازم وملزوم ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک زندگی میں قیام و قعود ہو یا رُکوع و سجود، خانگی معاملات ہوں یا دعوت و تذکیر کے حالات، گھر کا ماحول ہو یا میدانِ جہاد، یہ باطنی کیفیات اور قلبی صفات ہر جگہ نظر آتی ہیں۔ ان باطنی کیفیات کی ظاہری اعمال کے لیے وہی حیثیت ہے جو جسم انسانی کے لیے رُوح کی اور ظاہری ڈھانچے کے مقابلے میں دِل کی۔ وہ علم جو حصہ اوّل کی تعلیمات پر مشتمل ہے اسے فقہِ ظاہر سے تعبیر کیا جاتا ہے اور وہ علم جو دُوسرے حصے کی تعلیمات پر مشتمل ہے اسے فقہِ باطن کہا جاتا ہے۔

خیرالقرون ہی سے جہاں ظاہری اعمال پر محنت کی گئی وہیں باطنی اعمال کی اصلاح کا بھی نہ صرف مکمل انتظام کیا گیا بلکہ اس کے لئے خانقاہوں کاقیام عمل میں آیا اور تزکیہ و اصلاح کا جو کام حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین مسجدِ نبوی میں کیا کرتے تھے، ائمہ مجتہدین اور اکابر نے انہیں خانقاہوں میں انجام دیا۔

خانقاہ کے معنیٰ اور خانقاہ کے قیام کا مقصد

خانقاہ فارسی زبان کا لفظ ہے اسکے معنیٰ غیاث اللغات میں لکھے ہیں’’جائے بودن درویشاں‘‘بس جہاں چند اللہ والے درویش بیٹھ جائیں بس وہی خانقاہ ہے

خانقاہ کے مقصد کے حوالے سے شیخنا و جدنا و مولانا حضرت اقدس مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ خانقاہ یُزَکِّیْہِمْ کا مظہر ہے۔ خانقاہ وہ جگہ ہے جہاں ’’جاہ‘‘ کا ’’جیم‘‘ اور ’’باہ‘‘ کی ’’باء‘‘ نکالی جائے اور خالص ’’آہ‘‘ رہ جائے کیونکہ آہ اور اللہ میں کوئی فاصلہ نہیں ہے، ہماری آہ کو اللہ نے اپنی آغوش میں لے رکھا ہے۔ جہاں آہ کو جاہ اور باہ سے پاک کیا جائے یعنی جہاں جاہ و تکبر مٹایا جائے اور باہ و شہوت، بد نظری اور عشق غیر اللہ سے دل کو پاک کیا جائے اس کا نام ’’خانقاہ‘‘ ہے۔ خانقاہ حلوہ کھانے کا نام نہیں ہے جیسا کہ عام لوگ سمجھتے ہیں۔ خانقاہ کی تعریف پر میرا شعر ہے ؎

اہلِ دل کے دل سے نکلے آہ آہ

بس وہی اخترؔ ہے اصلی خانقاہ

تزکیہ کے معنیٰ اور اہمیت

شیخنا و جدنا و مولانا نے ارشاد فرمایا کہ حضرت مولانا شاہ ابرار الحق صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ مدارس سے اور تبلیغ سے اعمال کا وجود ملتا ہے اور خانقاہوں سے ببرکتِ اخلاص اعمال کا قبول ملتا ہے، تینوں چیزیں ضروری ہیں، مدارس بھی ضروری ہیں، تبلیغ بھی ضروری ہے اور تزکیہ بھی ضروری ہے۔ تزکیۂ نفس شعبۂ نبوت ہے۔ بعض نادان لوگ کہتے ہیں کہ تزکیہ ولیوں والا کام ہے۔ میں نے کہا یُزَکِّیْھِمْ ولیوں والا کام ہے؟ مقاصدِ نبوت میں سے ایک اہم مقصد تزکیہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا یُزَکِّیْھِمْ۔ ہمارا نبی تزکیہ کرتا ہے اور تزکیہ سے مراد طہارتِ قلب، طہارتِ نفس اور طہارتِ بدن ہے۔ اس لیے علامہ آلوسی رحمۃ اللہ علیہ نے تفسیر روح المعانی میں یُزَکِّیْھِمْ کی تفسیر کی ہے أَیْ یُطَھِّرُ قُلُوْبَھُمْ وَ نُفُوْسَھُمْ وَ أَبْدَانَھُم۔ قُلُوْبَھُمْ مِنَ الْاِشْتِغَالِ بِغَیْرِ اللہِ وَ نُفُوْسَھُمْ مِنَ الْاَخْلَاقِ الرَّذِیْلَۃِ وَ أَبْدَانَھُمْ مِنَ الْأَنْجَاسِ وَ الْاَعْمَالِ الْقَبِیْحَۃِ۔ یعنی نبی پاک کرتا ہے صحابہ کے قلوب کو اور ان کے نفوس کو اور ان کے ابدان کو۔ قلوب کو پاک کرتا ہے غیر اللہ کے اشتغال سے اور نفوس کو پاک کرتا ہے اخلاقِ رذیلہ سے اور اجسام کو پاک کرتا ہے نجاستوں سے اور بُرے اعمال سے۔ یہ تزکیہ کا حاصل ہے، جب قلب مُزَکِّی ہوتا ہے، نفس مُزَکِّی ہوتا ہے اور بدن مُزَکِّی ہوتا ہے تو پھر اللہ کے قرب کی خوشبو زیادہ محسوس ہوتی ہے جیسے نہا دھو کر خالص عود لگایا جائے تو عود کی خوشبو محسوس ہوتی ہے اور پسینے کی بدبو اور غلاظت اور نجاست پر عود لگاؤ تو خوشبو کہاں محسوس ہوگی۔ایسے ہی جو لوگ گناہ نہیں چھوڑتے،نفس کا تزکیہ نہیں کراتے، ان کو اللہ کے قرب کی لذت کا صحیح اِدراک نہیں ہوتا۔ اورتزکیہ کے بغیر اعمال کا قبول ہی خطرہ میں ہے۔ جیسا کہ حدیثِ ریاء میں ہے کہ ایک قاری کو، ایک مجاہد کو اور ایک غنی کو جہنم میں پھینک دیا جائے گا، کیونکہ بغیر تزکیہ کے اخلاص نہیں مل سکتا، اسی لیے تزکیہ فرض ہے اور تزکیہ فعل متعدی ہے۔ پس مُزَکِّی ہونے کے لیے ایک مُزکّیٰ کی ضرورت ہے لہٰذا تزکیہ کے لیے کسی شیخ کامل سے تعلق ضروری ہے۔

مدارس ہمیں عالم منزل بناتے ہیں، خانقاہیں اور اللہ والے ہمیں بالغ منزل بناتے ہیں

شیخنا و جدنا و مولانا نے ارشاد فرمایا کہ میرے شیخ حضرت مولانا شاہ عبد الغنی صاحب پھولپوری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے تھے کہ اللہ ملتا ہے اللہ والوں سے، اگر یہ بات نہ ہوتی تو مولانا قاسم نانوتوی، مولا نا گنگوہی اور بڑے بڑے علماء و مشایخ کے سامنے زانوئے ادب طے نہ کرتے۔ مشکوٰۃ شریف کے شارح شیخ عبد الحق دہلوی بھی کتراتے کتراتے پھرتے تھے، بیعت نہیں ہوتے تھے، پھر ان کے والد نے ان کو خط لکھا، حیاتِ عبد الحق میں دیکھ لو، وہ میں نے خود پڑھا ہے، لکھا تھا ’’پسرم ملائے خشک و ناہموار نباشی‘‘ اے شیخ عبدالحق، محدث اور مشکوٰۃ شریف کی شرح لکھنے والے خشک ملا مت رہ، ناہموار مت رہ، جا کسی اللہ والے کو پکڑ اور اس کی صحبت اختیار کر، اللہ کے عاشقوں سے عاشق بنتے ہیں، مدارس ہمیں عالم منزل بناتے ہیں، خانقاہیں اور اللہ والے ہمیں بالغِ منزل بناتے ہیں، علمِ منزل اور ہے اور بلوغِ منزل اور ہے، علمِ منزل تو یہ ہے کہ راستہ دِکھا دیا کہ بھئی یہاں سے ایسے چلے جائیں، وہ فلاں گاؤں نظر آرہا ہے، یہ علم ہے مگر ہاتھ پکڑ کر اس گاؤں تک پہنچا دے یہ بلوغِ منزل ہے، علم منزل تو مدارس سے حاصل کرلو مگر بالغ منزل وہی ہوگا جو کسی بالغ منزل کا ہاتھ پکڑے۔

خانقاہ امدادیہ اشرفیہ کا قیام

شیخنا و جدنا و مولانا نے اپنے مشائخ سے جو اللہ تعالیٰ کی محبت، دردِ دل اور آہ و فغاں سیکھی تھی اس کو نشر کرنے کے لئے اپنی حیاتِ مبارکہ کو وقف فرما دیا تھا، چنانچہ شیخنا و جدنا و مولانا کو ۱۸ محرم الحرام ۱۳۸۷ھ مطابق ۲۸اپریل ۱۹۶۷ء بروز جمعہ کو حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی صاحب تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ حضرت مولانا شاہ ابرار الحق صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے خلافت اور اجازت بیعت سے سرفراز فرمایاتھا۔ اس کے بعدشیخناوجدناومولانا نے اپنی رہائش گاہ ۴۔جی ۱/۲ ناظم آبادکراچی سے احیاء السنہ، اصلاح اخلاق اور تزکیہ نفس کے عالمگیر کام کا آغاز فرمایا۔ سالکین طریقت اور اہل محبت کی تعداد میں مسلسل اضافہ کے باعث جگہ ناکافی ہوگئی۔ شیخنا و جدنا و مولانا کے شیخ ثانی حضرت مولانا شاہ ابرار الحق صاحب ہردوئی رحمۃ اللہ علیہ نے ہردوئی سےاپنے والا نامہ میں تحریر فرمایا کہ دل میں یوں آتا ہے کہ آپ اپنا مکان فروخت کر کے کسی دوسری جگہ زمین لیں اور وہاں خانقاہ اور گھربنائیں۔ اپنے شیخ حضرت ہردوئی رحمۃ اللہ علیہ کے مشورہ پر شیخناوجدناومولانانے ۵ دسمبر۱۹۷۷ء کو ۶۰۰ گز کا ایک پلاٹ گلشن اقبال بلاک ۲ میں خریدا۔۱۰جون ۱۹۷۸ء کو خانقاہ اور گھر کی تعمیر شروع کی اورخانقاہ اور گھر کی تعمیر مکمل ہونے پر ۱۲ربیع الاول ۱۴۰۰ھ مطابق ۳۱ جنوری ۱۹۸۰ء بروز جمعرات کو دوپہر ساڑھے تین بجے خانقاہ گلشن اقبال منتقل ہوگئے۔ خانقاہ میں قرآن پاک کی تعلیم کے لیے ایک مکتب قائم فرمایا جس میں بچے قرآن پاک حفظ و ناظرہ کی تعلیم حاصل کرتے تھے۔۲۰ اگست ۱۹۸۰ء کواس پلاٹ سے متصل ۷۰۰ گز کا دوسرا پلاٹ مسجد اور مدرسہ کی نیت سے خریدا۔ ۲۳ رمضان ۱۴۰۳ھ مطابق ۵ جولائی ۱۹۸۳ء بروزمنگل کو مسجد اشرف کا سنگِ بنیاد حضرت مولانا شاہ ابرار الحق صاحب ہردوئی رحمۃ اللہ علیہ نے رکھا۔ نہایت طویل جد و جہد اور صبر آزما مراحل کے بعد مسجد اشرف کی تعمیر مکمل ہوئی۔ الحمد للہ آج خانقاہ امدادیہ اشرفیہ اور مسجد اشرف پورے عالم کا عظیم روحانی مرکز ہے جہاں متوسلین، طالبین اور سالکین حضرات خصوصاً بڑے بڑے اہل علم افریقہ، امریکہ، برطانیہ، فرانس، جرمنی، برما، بنگلہ دیش، ہندوستان، افغانستان، ایران، کینیڈا، سعودی عرب اور عرب امارات وغیرہ اور پاکستان کے مختلف علاقوں سے اصلاح و تزکیہ کے لیے حاضر ہوتے ہیں۔ یہ وہی جگہ ہے جہاں ایک چھوٹے سے حجرہ میں شیخنا و جدنا و مولانا کا قیام تھا اور اسی چھوٹے سے حجرے سے سارے عالم میں دین نشر ہوگیا۔ احیاء السنہ، اصلاح اخلاق اور تزکیۂ نفس کا کام جو خانقاہ کی اصل روح ہے کراچی سے دنیا بھر میں پھیل گیا۔ الحمد للہ آج شیخنا و جدنا و مولانا کی نسبت سے مختلف ممالک کے متعدد شہروں میں سینکڑوں خانقاہیں قائم ہیں جہاں دین کی اشاعت اور اصلاح و تزکیہ کا کام ہورہا ہے۔

خانقاہ کی نسبت

شیخنا و جدنا و مولانا نے خانقاہ کو حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی نور اللہ مرقدہ و حضرت مولانا اشرف علی تھانوی نور اللہ مرقدہ سے منسوب کرکے اس کا نام ’’خانقاہ امدادیہ اشرفیہ‘‘ تجویز فرمایا۔ شیخنا و جدنا و مولانا نے اپنی خانقاہ کی بنیاد حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے بیان کردہ اصولوں کی روشنی میں رکھی اور تاحیات ان ضوابط پر کاربند رہے جس کی رو سے ہمارے بزرگوں کے مزاج میں جو کمال درجہ خشیت و للہیت، تقویٰ و طہارت واستغناء تھا، وہ ابتداء ہی سے شیخنا و جدنا و مولانا کی ذاتِ اطہر میں بدرجہ اتم موجود تھا۔ چنانچہ شیخنا و جدنا و مولانا نے خالصتاً دین کی خدمات کی انجام دہی کے لئے بھی کسی سے کوئی تقاضا نہیں کیا اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں بذاتِ خود اپنی جان، مال، وقت اور رہائش گاہ سب قربان کردیں۔

خانقاہ کی تعمیرمیں اخلاص تقویٰ اوراحتیاط

شیخنا و جدنا و مولانا نے ارشاد فرمایا کہ آج سے بیس سال پہلے جب میرا مدرسہ بن رہا تھا تو اس وقت ٹھیکیدار نے بتایا کہ چھ لاکھ میں ایک منزل بنے گی۔ میرے ایک دوست نواب قیصر صاحب نے کہا کہ عرب ملک کا ایک سفیر میرا دوست ہے، میں اس سے بات کرتا ہوں، امید ہے کہ وہ ساری رقم کا بندوبست کردے گا۔ سفیر نے نواب قیصرصاحب کی دوستی میں رقم دینا قبول کرلی۔ نواب قیصرصاحب نے مجھے فون کیا کہ جلدی سے آکر رقم لے لیں تو میں نے کہا کہ آپ جائیں اور ان سے رقم لے کر مجھے پہنچا دیں تو انہوں نے کہا کہ اس کے آفس میں جا کر وہاں سائن (Sign)کرنے پڑیں گے، تو میں نے کہا کہ دیکھیں نواب صاحب! میں نے بزرگوں کی جوتیاں اٹھائی ہیں، اگر بادشاہ کے دروازے پر جا کر پیسہ لیا تو اس خانقاہ کی عزت اور پیشانی پر ہمیشہ کے لیے داغ لگ جائے گا کہ اس خانقاہ کے فقیر نے ایک بادشاہ کے دروازے پر جاکر پیسہ لیا تھا۔ حالانکہ مجھے اس وقت رقم کی شدید ضرورت تھی، کے ڈی اے نے نوٹس دے دیا تھا کہ اگر مسجد نہیں بناؤ گے تو زمین واپس کرنی پڑے گی پھر بھی میں نے کہا کہ نہیں ہم اس طریقے سے پیسہ لینے نہیں جائیں گے۔ نواب صاحب نے کہا کہ شاہ عبد الغنی رحمۃ اللہ علیہ کی جوتیاں اٹھانے کی وجہ سے اللہ نے تم کو یہ ہمت دی ہے ورنہ اگر آج میں اعلان کردوں تو اس سفیر کے دروازے پر پیسہ لینے والوں کی لائن لگ جائے، یہ اللہ تعالیٰ کا فضل خاص ہے۔

شیخنا و جدنا و مولانا کے ایک قدیم خادم اور خلیفہ مجاز بیعت مولانا شہید الاسلام صاحب ہیں،یہ خانقاہ امدادیہ اشرفیہ کی تعمیر کے وقت انصار بدنیہ میں شامل تھے، خانقاہ میں جب موزیک کا فرش بچھا تو انہوں نے فرش کی گھسائی اپنے ہاتھ سے کی کیونکہ اس زمانہ میں ماربل گھسنے کے لئے مشینیں نہیں ہوتی تھیں۔ مولانا شہید الاسلام صاحب نے گزشتہ سال دُبئی کے سفر میں یہ واقعہ سنایا کہ خانقاہ کی تعمیر کے دوران حضرت سے محبت رکھنے والے ایک بڑے سرکاری افسر نے پانچ ناریل کے بڑے درخت خانقاہ میں لگانے کے لئے ہدیہ کئے، حضرت نے ان کے عہدہ کی رعایت کرتے ہوئے اس کو قبول کرلیا، پھر مجھ سے فرمایا کہ معلوم نہیں یہ درخت یہ صاحب خرید کر لائے ہیں یا اپنے سرکاری عہدہ کی بنا پر کسی نرسری سے بلا قیمت اٹھا کر لے آئے ہیں، میں اپنی خانقاہ میں کوئی مشتبہ مال نہیں لگا سکتا، تم ہمارے پیسے سے اتنے ہی بڑے ناریل کے درخت تلاش کرکے لاؤ، ہم وہ درخت خانقاہ میں لگائیں گے اور یہ درخت کسی کو ہدیہ کردیں گے، اس طرح ان کو بھی تکلیف نہیں ہوگی اور ہمارا دل بھی مطمئن ہوجائے گا۔ میں بہت تلاش کے بعد ناریل کے اتنے ہی بڑے پانچ درخت خرید کر لایا۔ حضرت نے ان درختوں کو اپنی خانقاہ میں لگایا اور ان صاحب کے لائے ہوئے درخت کسی کو ہدیہ کردئیے۔

اس اخلاص، تقویٰ اور احتیاط کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے اس خانقاہ سے نہایت عظیم الشان کام لیے۔ رفتہ رفتہ یہ خانقاہ مرجع خلائق بن گئی اور دنیا بھر سے سالکین طریقت بغرض اصلاح جوق در جوق آنے لگے۔

پیری مریدی کا حاصل

شیخنا و جدنا و مولانا نے فرمایا کہ پیری مریدی کرنا، شیخ کا دامن اور ہاتھ پکڑنا، خانقاہوں میں جانا، بزرگوں سے دعائیں کرانا سب کا حاصل یہی ہے کہ بندہ متقی ہو جائے، اگر یہ گناہ نہیں چھوڑتا تو اصلی مرید نہیں ہے، اصلی مرید وہ ہے جو ہر وقت یُرِیۡدُوۡنَ وَجۡہَہٗ رہے، جو ہر وقت اللہ کو یاد رکھتا ہے۔ لیکن عادۃ اللہ یہی ہے کہ تقویٰ شیخ کے ساتھ رہنے سے ملتا ہے، جو اللہ کے لیے شیخ کے ساتھ رہے گا تو اللہ تعالیٰ اسے تقویٰ دے دیتے ہیں۔ اس کی دلیل یہ آیت ہے:

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوْا اللہَ وَ کُوۡنُوۡا مَعَ الصّٰدِقِیۡنَ
(التوبۃ: 119)

اے ایمان والو! تقویٰ سے رہو تاکہ تم میرے ولی بن جاؤ اور تقویٰ حاصل کرنے کے لیے اہل تقویٰ کے ساتھ رہو۔

شیخ الحدیث حضرت مولانا زکریا صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ بغیر شیخ کامل کے گناہ سے بچنا نصیب نہیں ہوتا چاہے کتنا ہی ارادہ کرلو۔ خالی علم سے بھی گناہ سے نہیں بچ سکتا، علم روشنی ہے لیکن موٹر چلانے کے لیے روشنی کافی نہیں ہوتی پٹرول بھی چاہیے اور وہ ہے اللہ کا خوف جو اللہ والوں کے سینوں سے ملتا ہے۔

ذکر اسم ذات کا ثبوت

اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:

وَاذۡکُرِاسۡمَ رَبِّکَ
(المزمل: 8)

اپنے رب کا نام لو۔

قاضی ثناء اللہ پانی پتی رحمۃ اللہ علیہ اپنے دور کے امام بیہقی تھے، یہ بات مجھ کو میرے شیخ شاہ عبد الغنی صاحب نے بتائی اور یہ کس کے خلیفہ ہیں؟ حضرت مظہر جانِ جاناں رحمۃ اللہ علیہ کے، انہوں نے اپنی تفسیر کا نام اپنے پیر کے نام پر تفسیر مظہری رکھا ہے۔ قاضی ثناء اللہ پانی پتی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ جو یہ فرمارہے ہیں کہ اپنے رب کا نام لو تو رب کا نام تو اللہ ہے لہٰذا اس سے ذکر اسم ذات کا ثبوت ملتا ہے جو صوفیاء کرتے ہیں۔ اے علماء دین! دیکھو تفسیر مظہری۔اب تفسیر کے حوالے سے بڑھ کر اور کیا حوالہ دے سکتا ہوں۔

حکیم الامت رحمۃ اللہ علیہ فرماتے تھے کہ صحابہ رضوان اللہ علیھم اجمعین بھی ایک ایک لفظ کو بار بار رٹتے تھے جیسے اِذَاالسَّمَآءُانۡشَقَّتۡ یاد کرنا ہے تو اِذَاالسَّمَآءُانۡشَقَّتۡ، اِذَاالسَّمَآءُانۡشَقَّتۡ دس بیس دفعہ کہتے تھے تو یاد ہو جاتا تھا۔ تو ہمارے اکابر اسم ذات کا تکراراس لیے بتاتے ہیں تاکہ اللہ کے نام کا دل میں رُسوخ ہوجائے ؎

بھلاتا ہوں پھر بھی وہ یاد آرہے ہیں

اور حکیم الامت اپنے وعظ میں فرماتے ہیں کہ یہاں رب کیوں نازل کیا کہ اپنے رب کا نام لو؟ فرمایا کہ یہ ایسی مثال ہے جیسے کوئی کہے کہ اپنے ابا کا نام لو اور ابا مر گئے ہوں تو ابا کے نام سے آنسو آجاتے ہیں یا نہیں؟ تو اللہ نے فرمایا کہ اپنے رب کا نام لو جو زندہ حقیقی ہے، جو تمہیں پالتا ہے اور اللہ کا نام عاشقانہ لو، درد بھرے انداز سے۔ مولانا رومی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ؎

عام می خو انند ہر دم نام پاک

ایں اثر نہ کند چوں نبود عشق ناک

عام لوگ سبحان اللہ، سبحان اللہ، سبحان اللہ کہتے ہیں مگر ٹھیک سے ادا بھی نہیں کرتے تو یہ کامل اثر نہیں کرتا۔ دردناک محبت سے ایک مرتبہ اللہ کہوگے تو زمین سے آسمان تک شربت روح افزا سے بھر جائے گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ سارے عالم کے گنّوں میں رس پیدا کرتا ہے اور سارے عالم کو شکر دیتا ہے اور جب سے حضرت آدم علیہ السلام پیدا ہوئے ہیں تب سے آج تک اور قیامت تک شکر دے رہا ہے۔ تو مولانا رومی فرماتے ہیں ؎

اے دل ایں شکر خوشتر یا آنکہ شکر سازد

اے دل ایں قمر خوشتر یا آنکہ قمر سازد

اے دل یہ چینی زیادہ میٹھی ہے یا چینی کا پیدا کرنے والا زیادہ میٹھا ہے؟ اے دل یہ چاند زیادہ حسین ہے یا چاند کا پیدا کرنے والا زیادہ حسین ہے؟ اگر مجنوں کو اُس زمانے کا شمس الدین تبریزی مل جاتا تو اس کے عشق لیلیٰ کو عشق مولیٰ سے بدل دیتا۔

آج بھی جو رومانٹک میں مبتلا ہیں اور لیلاؤں کے چکر میں ہیں کسی اللہ والے کا دامن پکڑ لیں اور کچھ دن خانقاہوں میں رہ لیں تو آج بھی اِس زمانے کے شمس الدین تبریزی زندہ ہیں، ان شاء اللہ ان کی روحانیت کے فیض سے اس کا عشقِ لیلیٰ عشقِ مولیٰ سے بدل جائے گا اور وہ پاگل بھی نہیں ہوگا۔ مجانین جتنے بھی ہیں سب پاگل ہوگئے، مجنوں کی جمع مجانین ہے اور مولیٰ کا کوئی عاشق پاگل نہیں ہوتا اِلاّ یہ کہ جس کا کوئی رہبر نہ ہو یا اپنے پیر کے مشورے کے خلاف زیادہ ذکر کرلے۔

خانقاہ امدادیہ اشرفیہ کے محل وقوع کے لئے شہر کے قلب کا انتخاب

جس وقت شیخنا و جدنا و مولانا خانقاہ کے لئے جگہ لے رہے تھے اس وقت احباب نے کراچی میں مختلف مقامات کے مشورے دئیے مگر شیخنا و جدنا و مولانا نے اپنے شیخ حضرت ہردوئی کے مشورہ پر گلشن اقبال کراچی ہی کاانتخاب فرمایا، جو بلاشبہ اپنے محل وقوع کے اعتبار سے شہر کے قلب میں واقع ہے، جہاں سالکین طریقت بسہولت آمد و رفت رکھ سکتے ہیں۔ یہ شیخنا و جدنا و مولانا کا حسن انتخاب تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اس چھوٹی سی جگہ سے وہ کام لیا جس سے تھانہ بھون کی یاد تازہ ہوگئی ؎

عجب فرحت گہے ایں خانقاہ است

عجب نزہت گہے ایں خانقاہ است

اس خانقاہ میں جو فرحت اور انبساطِ قلب محسوس ہوتا ہے وہ نہایت عجیب و غریب ہے، یہاں رہتے ہوئے دلوں میں (عشق الہیہ و محبتِ نبوی) کے جوپھول کھلتے ہیں وہ بھی بے حد عجیب و غریب ہیں ؎

یکے ساقی و مے خواراں ہزار اند

دو چشم مست او مشغول کارند

اللہ تعالیٰ کی محبت کے جام پلانے والا ایک ہے، اور اسے پینے والے ہزاروں سالکین ہیں، جن کی دونوں آنکھیں اللہ کی محبت سے مست ہیں اوروہ سب دینی کاموں میں مشغول ہیں ؎

دل ایں جا می کند اللہ اللہ

کہ ہر دم بشنود اللہ اللہ

دل یہاں ہر وقت اللہ اللہ کرتاہے، اور وہ کیوں نہ کرے جب کہ یہاں ہر وقت اللہ اللہ ہی کی صدائیں سنائی دیتی ہیں ؎

چہ صحت بخش ہست ایں جا فضائے

دل ایں جا بے دوا یابد شفائے

یہاں کی فضا روحانی بیماریوں سے شفاء دینے والی ہے، وہ دل جس کی بیماریوں کی دوا کہیں نہیں ملتی یہاں آکر شفاء یاب ہوجاتا ہے ؎

تعالیٰ اللہ چہ عالی بارگاہے

کہ ایں جا ہر گدائے بادشاہے

کیا ہی بلند مرتبہ خانقاہ ہے، یہاں اگر کوئی ظاہری طور پر فقیر بھی ہے تو روحانی طور پر امیر ہے۔ اللہ تعالی اس خانقاہ کو اور رفعتوں سے نوازے۔

خانقاہ امدادیہ اشرفیہ کے لئے اکابر علماء اور مشائخ کی دعائیں

خانقاہ امدادیہ اشرفیہ کے لیے حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی صاحب تھانوی نوراللہ مرقدہ کے اجل خلیفہ حضرت مولانا فقیر محمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے دعا مانگی تھی کہ ’’یا اللہ! اس خانقاہ کو قیامت تک قائم رکھیے۔‘‘ حضرت ڈاکٹر عبدالحی صاحب عارفی، مسیح الامت حضرت مولانا مسیح اللہ خان صاحب جلال آبادی،محی السنہ حضرت مولانا شاہ ابرار الحق صاحب، حضرت مولانا شاہ محمد احمد صاحب پرتاب گڑھی، حضرت مفتی ولی حسن صاحب ٹونکی رحمۃ اللہ علیہم، دیگر اکابر اور شیخنا و جدنا و مولانا کے بے شمار معاصرین نے اس خانقاہ کی روحانی ترقی کے لئے دعائیں مانگی ہیں۔

شیخنا و جدنا و مولانا ہمیشہ یہ دعا مانگا کرتے تھے

’’اے ہمارے رب! اولیاء صدیقین کی جو خطِ منتہا ہے اختر کو، میری اولاد کو، میرے احبابِ حاضرین و غائبین کو اس خط منتہائے اولیاء صدیقین تک پہنچا دے اور گناہوں سے مانوسیت ختم فرما دے اور اپنی نافرمانی اور غضب کے اور قہر کے اعمال سے نفرت عطا فرما دے اور اے اللہ ہماری دنیا بھی بنا دے اور آخرت بھی بنا دے اور قلب پر سکینہ نازل فرما اور جو اختر سے تعلق رکھتے ہیں کسی ایک بندے کو بھی محروم نہ فرما، جو میری خانقاہ میں آئے وہ محروم نہ جائے، آمین۔‘‘

شیخنا و جدنا و مولانا کی تزکیہ و اصلاح نفس کی ان بابرکت مجالس سے ایک عالم مستفید ہوا، لاکھوں افراد کی زندگیاں بدل گئیں، زاہدانِ خشک و راہِ اعتدال سے دور صوفیاء شاہراہِ اولیاء اور راہِ اعتدال پر آکر حاملین نسبتِ الٰہیہ ہوئے اور عشق مجازی کے ہزاروں مریض اس مرض سے نجات پا کر عاشق حقیقی یعنی خدائے تعالیٰ کے عاشق بن گئے۔

شیخنا و جدنا و مولانا کو اللہ تعالیٰ نے اپنی محبت سے معمور جو قلب عطا فرمایا تھا اور شیخنا و جدنا و مولانا کی زبانِ مبارک سے اپنی محبت کی جو شرح بیان کروائی تھی گروہِ اولیاء میں اس کی مثال خال خال نظر آتی ہے۔ اسی لیے شیخنا و جدنا و مولانا کے دل میں یہ خواہش اور لبوں پر ہمیشہ یہ دعا رہی کہ یا اللہ اپنی محبت کی اس آگ کو سارے عالم کی زبانوں میں نشر فرمادے۔ اللہ تعالیٰ نے اس دعا کو شرفِ قبولیت عطا فرمایا جس کا ظہور اس طرح ہوا کہ شیخنا و جدنا و مولانا کے مواعظ اور ضخیم کتب کا دنیا کی مختلف زبانوں میں ترجمہ ہونے لگا اور الحمد للہ خانقاہ امدادیہ اشرفیہ گلشن اقبال کراچی سے اب تک کروڑوں روپے مالیت کی کتابیں مفت تقسیم کی جاچکی ہیں اور ان شاء اللہ قیامت تک تقسیم کی جاتی رہیں گی۔ کسی اللہ والے کے ہاتھوں راہِ خدا میں دین کی نشر و اشاعت کے لیے اتنی خطیر رقم کی دینی کتابوں کی مفت تقسیم تاریخ کی ایک منفرد داستان ہے۔

خانقاہ امدادیہ اشرفیہ کے موجودہ روح رواں

شیخناوجدناومولانا کی رحلت کے بعدحلیم الامت حضرت اقدس مولانا شاہ حکیم محمد مظہر صاحب دامت برکاتہم (فرزند ارجمند، نائب وقائم مقام شیخ العرب والعجم عارف باللہ مجددزمانہ حضرت اقدس مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب نور اللہ مرقدہ و خلیفہ مجاز بیعت محی السنہ حضرت اقدس مولانا شاہ ابرار الحق صاحب رحمۃ اللہ علیہ) خانقاہ امدادیہ اشرفیہ کے روح رواں ہیں۔والدگرامی حضرت مولانا محمدمظہر صاحب کو جہاں شیخنا و جدنا و مولانا کی مکمل توجہات، دعائیں، عنایات اوراعتماد حاصل تھا وہیں حضرت کے تینوں مشائخ، حضرت مولانا شاہ محمد احمد پرتاب گڑھی، شیخ المشائخ حضرت اقدس مولانا شاہ عبدالغنی صاحب پھولپوری اور محی السنہ حضرت اقدس مولانا شاہ ابرار الحق صاحب رحمۃ اللہ علیھم اجمعین کی دعائیں اور توجہات بھی حاصل تھیں۔

شیخنا و جدنا و مولانا کا اپنے نائب و قائم مقام پر حسن ظن، والہانہ تعلق اور محبت

شیخنا و جدنا و مولانا اپنی حیات میں بار بار خانقاہ میں بلا کسی شرط کے یہ اعلان کراتے رہے کہ جو شخص مجھ سے بیعت ہونا چاہتا ہے وہ میرے بیٹے مولانا محمد مظہر میاں سلمہ سے بیعت ہوجائے، کیونکہ ان کے ہاتھ پر بیعت کرنا میرے ہی ہاتھ پر بیعت کرنا ہے۔ شیخنا و جدنا و مولانا مجدد فی السلوک تھے، ان کو مجدد تسلیم کرنے والوں کے لیے اس ارشاد مبارک سے اعراض کرنا شیخنا و جدنا و مولانا کی ذاتِ مبارک پر اعتمادِ کامل میں کمی کی علامت ہے۔

ایک بار ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے مولانا محمد مظہر میاں سلمہ جیسا لائق، متقی، عالم بیٹا عطا فرمایا جن سے اللہ تعالیٰ اپنے کرم سے دین کا عظیم الشان کام لے رہے ہیں۔

ایک بار فرمایا کہ میرے مرشد حضرت ہردوئی نے احقر کو مشورہ دیا ہے کہ میں مولانا محمد مظہر صاحب سلمہٗ سے مشورہ کرلیا کروں اور جب بھی میں نے مولانا محمد مظہر صاحب سلمہٗ سے مشورہ لیا ہے تو مجھے نہایت فائدہ اور نفع ظاہری و باطنی عطا ہوا۔

ایک بار اپنے لائق بیٹے کی تقریر کے بعد بارگاہِ الٰہی میں اس طرح دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مولانا مظہر میاں سلمہٗ کو حسن بیان بھی عطا فرمائے اور درد بھرا دل بھی عطا فرمائے اور اخلاص بھی عطا فرمائے۔ آپ حضرات اس پر آمین کہہ دیجئے، میں امید کرتا ہوں کہ آپ کا دل کافی خوش ہوا ہوگا اور میرا دل بھی بے حد خوش ہوا، الحمد للہ انہوں نے کافی حد تک اسی انداز کے مضامین بیان فرمائے جیسے کہ اللہ تعالیٰ اپنے اس حقیر بندے کو توفیق عطا فرماتے ہیں، انہوں نے مولانا رومی کے اشعار پر بھی کلام کیا جس سے اور بھی دل خوش ہوا۔ اللہ تعالیٰ میری اولاد میں ہمیشہ ایسا بندہ پیدا فرمائے جو اس خانقاہ کو آباد رکھے۔ حضرت مولانا فقیر محمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ اس خانقاہ کو اللہ تعالیٰ تاقیامت آباد رکھے، بزرگوں کی دعائیں لگی ہوئی ہیں، اللہ تعالیٰ قبول فرمائے، اورمیں اپنے تمام خاندان والوں کے لئے دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ مجھ کو اور میرے خاندان والوں کو اور آنے والی نسلوں کو اللہ والا بنائے، اور آپ کو اور آپ کے تمام خاندان والوں کو اللہ تعالیٰ اللہ والا بنائے۔‘‘

شیخنا و جدنا و مولانا کے بعد والد گرامی ذی قدر کے ذریعہ دینی خدمات کا تسلسل

الحمد للہ والد گرامی ذی قدر سے اللہ تعالیٰ دین کے تمام شعبوں میں خوب کام لے رہے ہیں، پوری دنیا سے خوب رجوع ہو رہا ہے خصوصاً بڑے بڑے علماء سلسلہ میں داخل ہورہے ہیں۔

حضرت والد صاحب مجلس اشاعۃ الحق، جامعہ اشرف المدارس کراچی، خانقاہ امدادیہ اشرفیہ گلشن اقبال کراچی کا انتظام بحسن و خوبی سنبھالنے کے ساتھ ساتھ متعدد دینی اداروں کی سرپرستی بھی فرما رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے ذریعہ دین کے مختلف شعبوں میں جس طرح خدمات لے رہے ہیں یہ بارگاہِ حق کی جانب سے قابل صد شکر نعمت ہے۔

شیخنا و جدنا و مولانا کی حیاتِ مبارکہ میں روزانہ مختلف اوقات میں دینی اصلاحی مجالس کا سلسلہ جاری تھا، والد گرامی ذی قدر نے اس کڑی کو ٹوٹنے نہیں دیا بلکہ شیخنا و جدنا و مولانا کی حیاتِ مبارکہ کے آخری ایام ہی میں اس کام کو جاری و ساری رکھنے کا اہتمام کرنا شروع کردیا تھا۔

والد گرامی کے زیر انتظام شیخنا و جدنا و مولانا کے مواعظ آج بھی اسی طرح شائع ہورہے ہیں جس طرح ان کی زندگی میں ہوتے تھے۔ شیخنا و جدنا و مولانا کی نگرانی میں جاری ہونے والا ماہنامہ رسالہ ’’الابرار‘‘ بھی ہر ماہ شائع ہورہا ہے۔ نیز شیخنا و جدنا و مولانا کی قلبی خواہش کے مطابق سہ ماہی ’’فغانِ اختر‘‘ کا اجراء بھی والد محترم کی نگرانی میں ہوگیا ہے۔

تشنگان جام شریعت و طریقت کی تشنگی مٹانے کے لیے قلب میں موجزن دریائے شریعت و طریقت لیے والد ماجد حضرت اقدس مولانا شاہ حکیم محمد مظہر صاحب کا اندرونِ ملک و بیرونِ ملک اسفار کا سلسلہ بھی جاری ہے جس کے باعث بے شمار بندگانِ خدا راہِ شریعت و طریقت سے واقف ہوکر دیوانۂ حق بن رہے ہیں۔

اللہ تعالیٰ اس خانقاہ کے فیض کو تاقیامت جاری و ساری فرمائے اور والد گرامی ذی قدر حضرت اقدس مولانا شاہ حکیم محمد مظہر صاحب دامت برکاتہم العالیہ کا سایہ ہم پر تادیر صحت و عافیت کے ساتھ قائم ودائم رکھے، آمین۔

شیخنا و جدنا و مولانا کی خوشبو

شیخنا و جدنا و مولانا مشیت ایزدی سے آج ہمارے درمیان نہیں رہے، لیکن اُن کےبابرکت وجود کی خوشبو، ان کی پرنور مجالس کی خوشبو،ان کی ان گنت دعاؤں اور بے شمار اذکار وتسبیحات کی خوشبو خانقاہِ امدادیہ اشرفیہ کے در و دیوار میں اور اُس کے ماحول میں ایسی رچی بسی ہے جیسےشیخناوجدناومولانا یہیں تشریف فرما ہیں۔ بقول جگر مراد آبادی ؎

وہ کب کے آئے بھی اور گئے بھی، نظر میں اب تک سما رہے ہیں

یہ چل رہے ہیں، وہ پھر رہے ہیں، یہ آرہے ہیں، وہ جارہے ہیں

ہمیں رحمتِ باری تعالیٰ سے آج بھی اُمید واثق ہے کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جیسے پوری دنیا میں مقاصدِ بعثت کی محنت پھیلی ہے اور اِسلام کو روز افزوں فروغ حاصل ہوا ہے، اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کی برکت سے شیخنا و جدنا و مولانا کے انتقال کے بعد بھی تزکیہ و سلوک اور مقاصدِ بعثت نبوی کی محنت کا دائرہ وسیع سے وسیع تر ہوگا جس کے آثار محسوس ہونے لگے ہیں۔

(حضرت مولانا) حکیم محمد اسماعیل صاحب
نبیرہ وخلیفہ مُجاز بیعت
شیخ العرب والعجم عارف باللہ مجددزمانہ
حضرت اقدس مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب قدس سرہ العزیز

Last Updated On Sunday 23rd of April 2017 10:18:05 AM